یورپین دارالحکومت برسلز میں پاک بیلج سوشو کلچرل ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام یوم دفاع کے حوالے سے منعقد ہونے والی تقریب کے مقررین اور شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ دفاع وطن کیلئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔ان خیالات کا اظہار 6 ستمبر کے حوالے سے پریس کلب برسلز یورپ میں منعقد ہونے والی تقریب میں کیا گیا، جس میں یورپین یونین، بیلجیئم اور لکسمبرگ کیلئے پاکستانی سفیر آمنہ بلوچ مہمان خصوصی تھیں۔تقریب کے شرکاء میں ایک بڑی تعداد بیلجیئم کی مختلف یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرنے والے پاکستانی طلباء کی تھی۔جس کے باعث یہ تقریب جہاں شہیدان وطن کو یاد کرنے کا بہانہ تھی وہیں یہ معماران وطن کو اس عزم میں شامل کرنے کا ایک ذریعہ بھی ثابت ہوئی۔تقریب میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے سفیر پاکستان نے کہا کہ ہمیں ان بہادر خواتین و حضرات کی قربانیوں کو ہرگز نہیں بھولنا چاہیے جنہوں نے ہماری آزادی اور سلامتی کے تحفظ کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔انہوں نے کہا کہ یوم دفاع ہمیں بحیثیت قوم اتحاد اور یکجہتی کا درس دیتا ہے۔ یہ دن اپنے باہمی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایک ساتھ کھڑے ہونے کا دن ہے اور یہ دن ہماری قوم کیلئے امن و استحکام اور خوشحالی کے عزم کی تجدید کا دن بھی ہے۔ اس لیے آئیے اس یوم دفاع پر ہم عہد کریں کہ اپنے باہمی تنازعات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایک پرامن فضا کے قیام کیلئے ملکر کام کریں گے۔قبل ازیں تلاوت کلام پاک سے شروع ہونے والی تقریب میں گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر علی شیرازی اور ڈاکٹر کامران نے وطن کے شہیدوں کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے طلباء سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ آج کی نسل کے پاس ہم سے بہتر ٹول ہیں جنہیں استعمال کرتے ہوئے اپنے وطن کے امیج کو دنیا کے سامنے بہتر انداز میں پیش کیا جا سکتا ہے۔تقریب سے خطاب کرتے ممتاز کشمیری رہنما سردار محمود نے یاد دلایا کہ کشمیر کے لوگ پاکستان کے وجود میں آنے سے پہلے ہی پاکستانی تھے۔ جب 19 جولائی 1947 کو سردار ابراہیم کے ہاں الحاق پاکستان کی قرارداد پیش کی گئی۔ انہوں نے کہا کشمیریوں کی تمام امیدوں کا مرکز اور ان کا وکیل پاکستان ہے۔اسی لیے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان مضبوط ہوگا تو ہم بھی مضبوط ہوں گے۔ انہوں نے وطن کے ان تمام شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا جنہوں نے اپنا کل ہمارے آج کیلئے قربان کردیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پی اے ایس سی اے کے چیئرمین سردار صدیق خان نے کہا کہ دنیا کی بڑی یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرتے پاکستانی طلباء ہمارا مستقبل ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے اس مستقبل کا خیال رکھیں۔ اس موقع پر انہوں نے ان خدمات کا بھی ذکر کیا جو ان کی تنظیم انجام دے رہی ہے۔ انہوں نے اس حوالے سے اپنے تجربات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ کس طرح اوورسیز پاکستانی اپنی چھوٹی چھوٹی کوششوں سے ان طلباء کے ان مسائل میں کمی لا سکتے ہیں جن کا سامنا ان طلباء کو کرنا پڑ رہا ہے۔
تقریب میں نظامت کے فرائض پریس کلب بیلجیئم کے صدر عمران ثاقب چوہدری نے انجام دیے۔تقریب کے آخر میں شہداء کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتی اور ان کے خاندانوں کے مسائل اور وطن سے ان کی لازوال محبت پر مشتمل ایک دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی۔ جبکہ قومی ترانے اور وطن عزیز کی ترقی و استحکام کی دعا کے ساتھ تقریب اختتام پذیر ہوگئی۔
