رپورٹ : مطیع اللہ ، برلن ۔ جرمنی
اردو انجمن برلن کے زیر اہتمام جرمنی کے دارالحکومت برلن میں ایک ادبی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب کے مہمان خصوصی پاکستان کے نامور محقق ، ادیبہ و شاعرہ اور آرٹس کونسل آف پاکستان کی جوش ملیح آبادی کی لائبریری کی نگراں ڈاکٹر فاطمہ حسن نے شرکت کی اور اپنے دلچسپ اور سیر حاصل مقالے میں اردو زبان میں انسانیت اور بقائے باہمی کے حوالے سے شاندار گفتگو کی۔
اس تقریب کے دوسرے حصے میں عشرت معین سیما کے تازہ شعری مجموعے کا اجراء اور مقامی شعراء کے پیش کردہ کلام پر شعری نشست بھی شامل تھی۔ اردو انجمن کی اس شاندار تقریب ملاقات میں برلن کی ادبی، علمی ، سیاسی اور سماجی شخصیات کے ساتھ ساتھ سفارتخانہ پاکستان کی پریس کانسلر حنا ملک نے بھی خصوصی شرکت کی۔
برلن کے وسط شونے بیرگ کے مقامی ہال میں اردو انجمن کا سالانہ جلسہ اردو زبان و ادب میں انسانیت کی بقا اور سماجی استحکام کے حوالے سے ایک خصوصی مقالے کا اہتمام کیا گیا جس کے لیے ڈاکٹر فاطمہ حسن نے کراچی سے خصوصی شرکت کی ۔
تقریب کی نظامت انجمن کے نائب صدر انور ظہیر رہبر نے کی۔ تقریب کے آغاز میں پاکستان اور دنیائے زبان و ادب میں اردو زبان کی حیثیت اور انسانیت کی بقا اور سماج میں استحکام کے حوالے سے مفصل اور دلچسپ گفتگو کی۔ انہوں نے اکادمی ادبیات کے ڈائریکٹر جناب ڈاکٹر یوسف خشک کی ایک تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ دنیا میں اس وقت سات ہزار سے زائد زبانوں کو عالمی زبان کے زمرے میں لیا گیا ہے جس میں اردو زبان چھوتے نمبر پر ہے۔ اس حوالے سے اردو زبان عالمی سطح پر ایک ایسی زبان کے طور پر سامنے آرہی ہے جو دنیا کے ہر خطے اور ہر ملک سے زبان کی ثقافت کو جوڑ رہی ہے
اس تقریب میں عشرت معین سیما کے تیسرے شعری مجموعے “ با اہتمامِ جنوں “ کا بھی اجراء کیا گیا۔ تنظیم کے صدر عارف نقوی نے اردو انجمن کی جانب سے عشرت معین سیما کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے سراہا اور حاضرین کو بتایا کہ عشرت معین سیما کا کامیاب علمی و ادبی سفر اور اُن کی اردو انجمن میں شمولیت جرمنی میں اردو ادب و شاعری کو پروان چڑھانے کے لیے مسلسل جاری ہے۔
ڈاکٹر فاطمہ حسن کو اور عشرت معین سیما کو اردو انجمن کی جانب سے گلدستے پیش کئے گئے اور ڈاکٹر فاطمہ حسن کو اردو انجمن کی جانب سے صدر عارف نقوی نے اعزازی سند سے نوازا۔ اس موقع پر ڈاکٹر فاطمہ حسن نے پروگرام کے منتظمین کو پاکستان کی روایتی اجرک کا تحفہ بھی پیش کیا۔
روایت کے مطابق چائے سموسوں اور کیک سے مہمانوں کی تواضع کی گئی اور انجمن کے اراکین کے ساتھ ڈاکٹر فاطمہ حسن اور اُن کی دختر نے ایک پاکستانی ریستوراں میں پُر تکلف عشائیہ تناول کیا۔
