کنگ چارلس برطانیہ کے بادشاہ بننےکے بعد اپنے پہلے بیرون ملک دورے پر جرمنی میں ہیں۔ جمعرات کو انہوں نے وفاقی جرمن پارلیمان سے خطاب کیا اور جرمنی کی یوکرین کی مدد کی تعریف اوراینگلو جرمن ثقافتی روابط کو خراج تحسین پیش کیا۔
برطانوی بادشاہ چارلس سوم نے جمعرات کو جرمنی کی وفاقی پارلیمان کے ایوان زیریں سے اپنے خطاب سے پہلے جرمن چانسلر اولاف شولس سے ملاقات کی۔ چارلس سوم اس وقت جرمنی کے تین روزہ سرکاری دورے پر برلن میں ہیں۔ گزشتہ سال ستمبر میں ملکہ الزبتھ دوم کی وفات کے بعد برطانیہ کے بادشاہ بننے والے چارلسسوم کا یہ پہلا غیر ملکی دورہ ہے۔
جرمن پارلیمان سے خطاب
وفاقی جرمن پارلیمان کے ایوان زیریں، بُنڈس ٹاگ میں برطانوی بادشاہ چارلس نے اپنی تقریر کا آغاز جرمن زبان میں کیا اور اپنی پوری تقریر کے دوران انہوں نے متعدد بار انگریزی کے ساتھ ساتھ جرمن زبان میں بھی گفتگو کی۔ انہوں نے کہا، ”میری اہلیہ اور میں بہت خوش ہیں کہ بادشاہ کے طور پر ہم جرمنی کے دعوت نامے پر اپنے پہلے غیر ملکی دورے پر جرمنی آئے ہیں۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا، ”مجھے خاص طور پر خوشی ہے کہ میں آج یہاں بات کرنے کے قابل ہوں تاکہ دونوں ممالک کے مابین دوستی کی بنیاد پرعزم کا اعائدہ کیا جا سکے۔‘‘
برطانوی بادشاہ نے روس کے خلاف یوکرین کے لیے جرمنی کی وسیع مدد کی تعریف کرتے ہوئے کہا، ”جرمنی کا یوکرین کو اتنی بڑی عسکری مدد دینے کا فیصلہ انتہائی جرات مندانہ، اہم اور خوش آئند فیصلہ تھا۔‘‘ بادشاہ چارلس کا مزید کہنا تھا، ”یورپ میں سب سے بڑے عطیہ دہندگان کے طور پر برطانیہ اور جرمنی نے یوکرین کی جنگ کے ردعمل میں ایسے فیصلے کیے جو شاید پہلے ناقابل تصور تھے۔‘‘پارلیمان کی صدر کی طرف سے خیر مقدم
وفاقی جرمن پارلیمان کے ایوان زیریں سے برطانویبادشاہ چارلس کے خطاب سے قبل جرمن پارلیمان کی صدر بیئربل باس نے ان کو خوش آمدید کہا اوربرطانوی بادشاہی جوڑے کی جرمنی آمد کو ایک ‘عظیم اعزاز‘ قرار دیا۔
بادشاہ چارلس کی جرمنی میں مزید مصروفیات
برلن میں وفاقی پارلیمان کے ایوان زیریں سے خطاب دراصل بادشاہ چارلس کے جرمنی میں انتہائی مصروف ایجنڈا میں شامل تھا۔ پارلیمان پہنچنے سے قبل بادشاہ چارلس نے برلن کی گولڈن بک پر دستخط کیے، جس میں برلن آنے والے ہر سرکاری مہمان سے دستخط لیے جاتے ہیں اور ہر ہائی پروفائل زائر کے دورے کی یاددگار اس گولڈن کتاب میں محفوظ کر لی جاتی ہے۔ بادشاہ چارلس اور ان کی اہلیہ کی کی مصروفیات میں جرمن دارالحکومت میں ایک ہفتہ وار بازار کا دورہ بھی شامل تھا۔
