Skip to content

منگل کے دن بھارتی قونصل خانہ فرینکفرٹ کے سامنے موسم خراب ہونے کے باوجود جرمنی کے کونے کونے سے سکھ کمیونٹی نے احتجاج میں حصّہ لیا

    منگل کے دن بھارتی قونصل خانہ فرینکفرٹ کے سامنے موسم خراب ہونے کے باوجود جرمنی کے کونے کونے سے سکھ کمیونٹی نے احتجاج میں حصّہ لیا پوری جرمنی سے آئی سکھ کمیونٹی نے احتجاجی مظاہرہ کیا ان کا احتجاج امرت پال سنگھ کے حق میں تھا ان کا کہنا تھا کہ وہ ان نوجوانوں کی مدد کر رہا تھا جو نشے کے عادی ہو چکے تھے احتجاج کی کال بھائی گرچرن سنگھ (ورلڈ سکھ پارلیمنٹ کے کو آرڈینیٹر(نے کیا، شرکت بھائی لکھوندر سنگھ مالہی(آئی ایس ایف جرمنی) بھائی گردیال سنگھ لالی(سکھ فیڈریشن جرمنی)بھائی اوتار سنگھ ببر(خالصہ جرمنی) بھائی جگتار سنگھ محل، بھائی پربو جیت سنگھ، بنائی بلکار سنگھ(پردھان گردوار سکھ سینٹر فرینکفرٹ) بھائی اوتار سنگھ نجار (آئی ایس ایف جرمنی)بھائی کلدیپ سنگھ ہیپی (بی کے ای)بھائی ریشم سنگھ ببر (بی کے جرمنی) بھائی اندر جیت سنگھ(ایس اے ڈی امرتسر)بھائی راجندر سنگھ (بی کے جرمنی) بھائی حرمیت سنگھ اور بھائی پرتاب سنگھ نے بھر پور حصّہ لیا اس کے ساتھ ساتھ سکھ کمیونٹی کے نوجوان نے بڑے جوش و خروش سے حصّہ لیا۔بھارت میں تقریباََ دو سو سکھوں کو گرفتار کیا گیا ہے جو نوجوان آزادیکی بات کرتے ہیں وہ اپنی قید کاٹ چکے ہیں ہم ان کی آزادی اور قیدیوں کی آزادی کے لئے اپنی آواز بلند کرتے رہے ہیں اور کرتے رہیں گے۔ جتنی دیر احتجاج جاری رہا اتنی دیر تک قونصل خانہ کی عمارت خالصتان کے نعروں سے گونجتی رہی۔ خطاب میں گرفتار ہونے والے افراد کے حق میں آواز اٹھائی گئی ان کا کہنا تھا کہ یہ سرکاری دہشت گردی کو ختم کیا جائے اس طرح آپ ظلم و تشدد کر کے بکھوں کی آواز کو دبا نہیں سکیں گے۔واہے گرو جی کا خالصہ واہے گرو جی کی جے۔پورے پنجاب میں کرفیو لگا کر ہونے والی دہشت گردی کو ختم کیا جائے۔پنجاب میں انٹرنیٹ بند کر کے مودی سرکار نے ایک بار دوبارہ حملہ کیا ہے جو مودی کو مہنگی پڑے گی، سکھ قوم آج سے چالیس سال پہلے بھی اس طرح کے ہتھ کنڈے سہہ چکے ہیں۔

    Leave a Reply

    Your email address will not be published. Required fields are marked *