Skip to content

جرمنی کو گیس فراہم کرنے والی پائپ لائن روس نے نہیں یوکرینی گروپ نے تباہ کی، جرمن میڈیا

    روس سے جرمنی کو گیس فراہم کرنے والی پائپ لائن نارڈ اسٹریم 1 اور 2 کو روس نے نہیں بلکہ یوکرین کے حمایتی گروپ نے تباہ کیا تھا۔یہ دعویٰ جرمن اور امریکی میڈیا میں شائع ہونے والی ایک تازہ رپورٹ میں کیا گیا ہے۔جرمنی سے تعلق رکھنے والے مختلف ذرائع ابلاغ اے آر ڈی، ایس ڈبلیو آر اور اخبار ڈائی زیسٹ کے علاوہ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق جرمن پبلک پراسیکیوٹرز کی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ گذشتہ سال ستمبر میں روس سے جرمنی کو گیس فراہم کرنے والی نارڈ اسٹریم گیس پائپ لائن میں دھماکے مبینہ طور پر ایک پرو یوکرینین گروپ نے کیے تھے۔ان رپورٹس کے مطابق تفتیش کاروں نے اس سارے عمل میں استعمال ہونے والی ایک کشتی کا پتہ چلایا ہے جو پولینڈ میں دو یوکرینی بھائیوں کی ملکیت ایک کمپنی سے کرائے پر لی گئی تھی۔ جس کے ذریعے ستمبر کی ابتداء میں 6 افراد، غوطہ خوری کا سامان اور دھماکہ خیز مواد سمندر میں پہنچایا گیا۔
    رپورٹس کے مطابق اس عمل میں جن لوگوں نے حصہ لیا وہ سارے جعلی پاسپورٹ استعمال کر رہے تھے۔ اسی طرح تفتیشی حکام کرائے پر دی جانے والی اس کشتی میں سے دھماکہ خیز مواد کے چند نمونے حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہوگئے ہیں۔تاہم رپورٹ میں ابتک یوکرین کی حکومت کو اس واقعے کا کسی بھی حوالے سے ذمہ دار قرار نہیں دیا گیا ہے بلکہ اسے کسی یوکرین کے حمایتی گروپ کی کارروائی تصور کیا جا رہا ہے۔اسی طرح اس امکان کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا رہا کہ کہیں یہ روس کی جانب سے ہی کوئی فالس فلیگ آپریشن نہ ہو۔ لیکن مختلف ذرائع اس امکان کو یہ کہہ کر رد کرتے ہیں کہ اس عمل سے روس کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔
    واضح رہے کہ ستمبر 2022 میں روس سے جرمنی کو گیس فراہم کرنے والی 4 پائپ لائنوں میں سے 3 کو دھماکہ خیز مواد سے تباہ کردیا گیا تھا۔ جس کے بعد جرمنی سوئیڈن اور ڈنمارک نے تفتیش کا باقاعدہ آغاز کیا۔ جس کے بعد آگاہ کیا گیا کہ یہ سبوتاژ کا واقعہ ہے جس میں دھماکہ خیز مواد کے ذریعے پائپ لائن کو تباہ کیا گیا ہے۔جرمن ذرائع ابلاغ میں یہ خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اگر اس واقعے میں کسی حوالے سے بھی یوکرین کے حکام ملوث پائے گئے تو اس سے نہ صرف دونوں ممالک کے تعلقات خراب ہوں گے بلکہ یہ یوکرین کو اس کی جنگ میں بڑے حمایتی سے بھی محروم کردے گی۔

    Leave a Reply

    Your email address will not be published. Required fields are marked *