چیئرمین نیب کے عہدے سے مستعفی ہونے والے آفتاب سلطان کا کہنا ہے کہ اپنے کام میں مداخلت برداشت نہیں کرتا۔چیئرمین نیب نے نیب ہیڈ کوارٹر میں الوداعی خطاب میں کہا کہ مجھے کہا گیا کہ فلاں کے بھائی کو چھوڑ دو، فلاں شخص کو پکڑ لو، اس کے پاس ایک پلاٹ ہے، اپنی اربوں روپے کی پراپرٹی اور ایک پلاٹ والے کو پکڑ لوں؟انہوں نے کہا کہ نیب افسران سے کہتا ہوں کہ آئین کو مانیں اور اداروں کی بات نہ سنیں، نہ کچھ لے کر آیا تھا اور نہ ہی کچھ لے کر جا رہا ہوں۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ نیب کے 99 فیصد لوگ اچھے ہیں، ایک فیصد میں مسئلہ ہے، نیب افسران غیر قانونی اور غیر آئینی احکامات نہ مانیں۔آفتاب سلطان کا کہنا ہے کہ ملک کے دو صوبوں میں آئین کے مطابق انتخابات کرائے جائیں اور آنے والی نئی حکومتوں کو تسلیم کریں، نیب کو ایمانداری سے چلایا ہے، کسی کی مداخلت قبول نہیں کی۔
