جرمنی کے شہر فرینکفرٹ میں سویڈن کی قونصلیٹ کے سامنے جرمنی میں بسنے والے مسلمانوں نے بھر پور احتجاج کیا، احتجاج میں نہ صرف پاکستانی جبکہ ترکی اور عربی مسلمانوں نے بھی بڑھ چڑھ کر حصّہ لیا، پروگرام کا آغاز باقاعدہ طور پر تلاوت قرآن پاک سے کیا گیا جس کا شرف افغانی حامد نور کو حاصل ہوا، بُردہ شریف سید احسن شاہ، علامہ محمد صدیق مطفائی، زین العابدین، سید رضا احسن نے پیش کی ۔ترکش بھائی بہلول کا جرمن زبان میں کہنا تھا کہ ہم کسی صورت قرآن پاک کی بے حرمتی نہیں برداشت کریں گے، یہ پہلی دفعہ نہیں ہے پچھلے ہفتے ایک ملعون نے قرآن پاک کو جلایا تھا جبکہ دو دن پہلے ایک مسجد کے سامنے قرآن مجید کو پھر آگ لگائی گئی جبکہ آنے والے جمعّہ کو قرآن کو پھر جلایا جائے گا۔سید رضا احسن کا کہنا تھا کہ ہم زندہ ہیں ہم موجود ہیں نبی کریمﷺ کے خاکے بنتے ہیں یا رب کریم، تجھے تیری رحیمی اور کریمی کا واسطہ کہ ہمیں معاف کر دے کہ ہم موجود ہیں ہم زندہ ہیں اور تیری کتاب کو آگ لگائی جاتی ہے،ہم موجود ہیں زندہ ہیں اور لوگ تیرے محبوب کے خاکے بناتے ہیں، اے باری تعالی ہمارا پردہ رکھ لینا اور اپنے پیارے نبی کے سامنے ہمیں شرمندہ نہ کرنا۔، ایک ترکی بھائی کا کہنا تھا کہ یہ عجیب بات ہے کہ آزادی حق کی آڑ میں اور پولیس کی نگرانی میں ایسا گھناونا فعل کروایا گیا پوری دنیا میں بسنے والے تقریباََ (دو ارب) مسلمانوں کے دل زخمی کئے گئے، اس واقعہ کے خلاف پوری دنیا کے مسلمان سراپا احتجاج ہیں، یہاں یہ بھی بتاتے چلیں کہ اس شخص نے جرمن حکومت سے اجازت مانگی تھی جس پر جرمن حکومت نے اسے ڈیپورٹ کر دیا تھا، ہم اسی لئے آج اکٹھے ہوئے ہیں کہ ایسا دوبارہ نہ کیا جائے۔ڈی ٹپ کے عودہ دار کا کہنا تھا کہ ہم نہ صرف سویڈن جبکہ تمام حکومتوں سے اپیل کرتے ہیں کہ اس طرح کی نفرت انگیز حرکتوں سے باز آئیں جس سے صرف اور صرف نفرت پیدا کی جاتی ہے، قرآن کی حفاظت اللہ کریم نے خود اٹھائی ہوئی ہے وہ خود اس کی حفاظت کرے گا جبکہ ہمیں بھی بھی اس میں اپنا حصّہ ڈالنا چاہیئے جس کے لئے آج ہم یہاں اکٹھے ہوئے ہیں۔ ہمیں باہمی رواداری کا مظاہرہ کرنا چاہیئے۔ قاری ابتسام نے اپنی خوبصورت آواز میں سورۃ رحمان کی تلاوت کی گئی۔مسلمانوں سے اندھی نفرت کا نتیجہ ہے۔ ہم تمام مذہبی کتابوں کو مقدس سمجھتے ہیں اگر قرآن کو آگ لگاو گے تو صرف اور صرف نفرت کو ہوا دو گے۔ یہ مسلمانو کا ریکارڈ ہے کہ آج تک کسی مسلمان نے کسی مذہبی کتاب کو آگ لگائی۔، علامہ منظور عالم کا کہنا تھا کہ مسلمان اکیلے نہیں ہیں ہم کسی بھی ملک سے تعلق رکھتے ہوں ہم ایک ہیں اور ایک بن کر بتانا پڑے گا۔ جہاں عالمی قانون بنتے ہیں اسلام لوگوں کے دلوں میں بستا ہے ہم اپنی ذاتی حیثیت سے،تمام مسلمان ملکوں کے لیڈروں کو یک جان ہو کر احتجاج کی آ واز کو بلند کرنا چاہیئے۔ ہمیں اپنے بچوں کو قرآن پاک کی تعلیم دینی چاہیئے۔ ان کا فرمانا تھا کہ ہماری جتنی بھی کتابیں ہیں ہم جب تک ان پر ایمان نہیں لائیں گے ہمارا ایمان ہی مکمل نہیں ہوتا اس لئے کہ ہم دوسروں کے مذاہب کی عزت کریں تا کہ وہ بھی ہمارے مذہب کی عزت کریں۔درو سلام پیش کیا گیا اور آخر میں دعا فرمائی گئی۔ یہاں پر بہت ساری اسلامی تنظیمیں ہیں ان سے رابطہ کے بعد ہم عنقریب ایک بھر پور احتجاج ریکارڈ کروائیں گے۔دعا فرمائی گئی اس طرں پرامن ماحول میں احتجاج اپنے اختتام کو پہنچا۔ مولانا عبد اللطیف چشتی کا کہنا تھا کہ ترکی بھائی عبد الرحمن نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ ہم نے آج اکٹھا ہو کر اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا ہے میرا تعلق ترکش کمیونٹی سے ہے، ہمارے مذہب کی بے حرمتی کی گئی جو مسلمانوں کے لئے ذلت کا باعث ہے، اس طرح کے افراد کو سزا دی جانے والی آزادی اظہار ہمیشہ کیوں مسلمانوں کے خلاف استعمال کی جاتی ہے،اللہ کریم ابو لعب کی طرح ایسے افراد کے ہاتھوں کو توڑ دے۔ اسلام کسی مسلمان کی جاگیر نہیں اسلام پوری دنیا کے مسلمانوں کے لئے ہے۔ قاضی حبیب کا کہنا تھا کہ۔ اس احتجاج کو صرف احتجاج نہ سمجھیں جبکہ یہ اعلان جنگ ہے۔ الحاج محمد ارشد کا کہنا تھا کہ۔
احتجاج کے دوران نعرہ تکبیر اللہ و اکبر کے نعروں سے عمارتیں گونج اُٹیں۔ ٭امن کی کتاب قرآن کو اندھی نفرت سے جلا دیا گیا۔نفرت سے بولنا بند کرو۔ آخر کب تک تم ہمارے جذبات سے کھیلتے رہو گے۔ مسلمان تمام مذہبی کتابوں کو مقدس سمجھتے تھے،ہیں اور رہیں گے۔اس لئے اس نفرت کی آگ کو بھڑکانے سے باز آ جاوُ .
