Skip to content

برسلز: کشمیرکونسل ای یو نے یوم سیاہ (بھارتی یوم جمہوریہ) پر برسلز میں احتجاجی کیمپ لگایا

    برسلز:کشمیرکونسل یورپ (ای یو) کے زیراہتمام 26 جنوری بروز جمعرات بھارت کے یوم جمہوریہ (یوم سیاہ) کے موقع پر برسلزمیں ای یو ایکسٹرنل ایکشن سروس (یورپی یونین کی وزارت خارجہ) کے سامنے ایک روزہ پرامن احتجاجی کیمپ لگایا گیا۔
    یادرہے کہ چھبیس جنوری بھارتی یوم جمہوریہ کو کشمیری ہرسال احتجاجاً یوم سیاہ کے طورپرمناتے ہیں۔
    برسلز میں احتجاجی کیمپ کی قیادت کشمیرکونسل ای یو کے چیئرمین علی رضا سید نے کی۔ اس دوران احتجاج کرنے والوں میں اہم کشمیری اور پاکستانی شخصیات شامل تھیں جن میں سردار صدیق، چوہدری خالد جوشی، شیراز راج، کینتھ رائے، سید اظہر شاہ، مہر ندیم، راجہ عبدالقیوم اور اسلم شاہ قابل ذکر ہیں۔
    کشمیرکونسل ای یو کے چیئرمین علی رضاسید نے اس موقع پر کہا کہ بھارت ایک طرف جمہوریت کا دعویدار ہے لیکن دوسری طرف کشمیریوں پر ظلم کررہا ہے اور ان کے جمہوری حقوق کو سات دہائیوں سے دبا رہا ہے۔ علی رضاسید نے کہاکہ کشمیریوں کوان کے حقوق ملنے چاہیں۔ کشمیریوں پرناانصافیاں ختم ہونی چاہیں تاکہ کشمیری خوشحال زندگی بسر کرسکیں۔
    چیئرمین کشمیرکونسل ای یو نے مطالبہ کیاکہ مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکاجائے۔ بھارت کشمیریوں پر مظالم بندکرے اورکشمیریوں کے حق خودارادیت کے لئے اپنے وعددوں پر عمل کرے۔
    علی رضا سید نے کہاکہ کشمیرمیں امن ہوگاتوپورے خطے میں خوشحالی آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری قوم اپنے حق خودارادیت سے کبھی بھی دستبردارنہیں ہوگی۔ بھارت کشمیریوں کے خلاف سنگین جرائم میں ملوث ہے۔انھوں نے کہاکہ پوری عالمی برادری یہ جانتی ہے کہ انسانی حقوق کشمیریوں کا ایک خواب ہے اور کشمیری قوم اپنے حق خودارادیت پر کبھی بھی سودابازی نہیں کرے گی۔انھوں نے کہاکہ ہم نے کشمیریوں کے حقوق کی حمایت میں اپنی مہم چلارکھی ہے اور ہرقیمت پر یہ مہم جاری رہے گی۔ انہوں نے کہاکہ ہم بھارتی حکومت کو یہ پیغام دیناچاہتے ہیں کہ اگرلوگ بندوق کی نوک کے نیچے زندگی بسرکررہے ہوں تو اس طرح کسی بھی جمہوریت کو فروغ نہیں ملتا۔ کشمیری قوم اپنے مستقبل کا آزادماحول میں فیصلہ کرناچاہتی ہے۔ افسوس سے کہناپڑتاہے کہ بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا دعویدار ہے لیکن وہ کشمیریوں کے حقوق دبارہاہے اور مقبوضہ وادی میں بے گناہ لوگوں کوقتل کررہاہے۔ روزانہ کی بنیادوں پر ریاستی ادارے انھیں کچلنے پر لگے ہوئے ہیں، بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں تشدد، خوف و ہراس اور خواتین کی عصمت دری معمول بن چکاہے۔ وادی کشمیر میں ڈروخوف پایاجاتاہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم مسئلہ کشمیرکو اجاگر کرنے اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

    Leave a Reply

    Your email address will not be published. Required fields are marked *