آج بروز اتوار 11 دسمبر کو منہاج القرآن انٹرنیشنل فرینکفرٹ کے زیر انتظام سالانہ محفل میلادﷺ کا انعقاد کیا گیا جس کی صدارت میاں عمران الحق صدر منہاج القرآن جرمنی نے کی،ڈاکٹر چن نصیب جنرل سیکریٹری منہاج القرآن جرمنی خصوصی مہمان کے طور پر تشریف لائے، خصوصی طور پر خطیب و امام جامع مسجد صوفیہ میونخ سے علامہ سید فرحت حسین شاہ بخاری۔ برطانیہ مانچسٹر سے منہاج القرآن انٹرنیشل کے ڈائریکٹر علامہ عبد الستار سراج خصوصی کے لئے تشریف لائے عالمی شہرت یافتہ نعت خواں میلاد رضا قادری برطانیہ(گلاسکو) سے محفل کی رونق کو دوبالا کرنے تشریف لائے تھے جبکہ مقامی نعت خواں رانا محمد آصف اور چوہدری محمد زاہد نے بھی حصّہ لیا ، باقاعدہ طور پروگرام کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے کیا گیا جس کا شرف حافظ محد عارف کو ملا، چوہدری محمد زاہدنے ہدیہ نعت پیش کی، رانا محمد آصف قادری جو کسی تعارف کے محتاج نہیں نے اپنی خوبصورت آواز میں ہدیہ نعت پیش کر کے داد حاصل کی۔ رکھ لے وہ جو در پر دربان وغیرہ۔ پھر کیا ہے میرے سامنے سلطان وغیرہ، خیرات ملی وہ جنہیں سرکار کے در سے۔دنیا کے اٹھاتے نہیں احسان وغیرہ۔،محمد یونس کے بچوں۔ محمد اعظم، الیاس اور حمیرہ خاتون نے نعت رسول مقبول پیش کر کے محفل کا دل جیت لیا۔ پھول کھلتے ہیں پڑھ پڑھ کے صلے علی، جھوم کر کہہ رہی ہے یہ باد صباء، ایسی خوشبو چمن کے گلوں میں کہاں،جو نبیﷺ کے پسینے میں موجود ہے، ہم نے آنکھوں سے دیکھا نہیں ہے مگر، ان کی تصویر سینے میں موجود ہے۔ بین الاقوامی شہرت یافتہ میلاد رضا قادری نے بہت خوبصورت انداز میں ہدیہ نعت شروع کی جیسے جیسے وقت گزرتا گیا محفل جھوم جھوم اُٹھی، آوُ کہ سب حضور سے عہد وفا کریں، سارے پڑھو درود کہ سرکار آ گئے،دنیا تے دو جہاناں دے مختار آ گئے،اللہ ہما صلے علی سیدنا و مولانا محمدِِ، میں نے در رسولﷺ پے سر کو جھکا دیا، میرا نصیب میرے نبی نے جگا دیا۔ اللہ ہما صلے علی۔وہ پڑھتے جاتے تھے اور لوگ جھوم جھوم کر میلاد رضا قادری کا ساتھ دے رہے تھے۔خُدا کے بعد تھی ہستی فقط زہرا کے بابا کی، رسولوں اور نبیوں کے زمانے بعد میں آئے۔ مسجد نعروں کی آواز سے گونج اُٹھی۔وہ نانا کی زباں کو چوس کر سیراب تھے کب کے۔ یزیدی نہر پر پہرا لگانے بعد میں آئے۔ میاں عمران الحق صدر منہاج القرآن جرمنی نے تمام خواتین و حضرات کا دلی شکریہ ادا کیا، علامہ عبد الستار سراج،عالمی شہرت یافتہ نعت خواں میلاد رضا قادری، علامہ فرحت حسین شاہ کا خصوصی شکریہ ادا کیا، ان کا کہنا تھا کہ اس محفل سے ہمیں کچھ نہ کچھ حاصل کر کے جانا ہے جسے اپنی عملی زندگی میں نافذ کریں تا کہ ہماری دنیا اور آخرت بھی سنبھل جائے، پنجابی میں نعت پیش کی۔ جناں دے لیکھ سُتے سی، جناں ہونٹاں تے وینڑھ آئے۔ اُناں سارے غلاماں لئی نبی ساٹھ حسین آئے۔شفاء بیمار پاوندے سی، جدوں عیسی نوں تک لیندے، محمد اُو مسیحا نیں خُدا نوں ویکھ چین آئے۔ گئے کوہ طور جاں موسی۔ صدا سی لن ترانی دی، ٹُرے جاں آپ عرشاں نوں ،نبی چل کے سی لینڑ آئے۔ درود مصطفی میرا ورد سلطان ہر ویلیبرطانیہ مانچسٹر، منہاج القرآن انٹرنیشل کے ڈائریکٹر علامہ عبد الستار سراج نے اپنا خطاب کچھ یوں شروع کیا کہ جب بھی ہم کسی پروگرام میں جاتے ہیں، اس جانے کے اغراض و مقاصد کیا ہونے چاہییں، وہاں سے کیا لے کر آنا چاہیئے،میلاد کے فضائل اس کی برکتیں، اس کی رحمتیں، میں تھوڑی سی فکری اور نظریاتی گفتگو کرنا چاہوں گا۔ایسی محفل میں آنے کا مقصود کیا ہوتا ہے۔ ایسی محفل میں تین طرح کے مقاصد ہوتے ہیں یا یوں کہنا مناسب ہو گا کہ تین طرح کے لوگ آتے ہیں۔ ایک ایسے لوگ جو صرف معلومات لے کر جاتے ہیں تھوڑا ہنس لیا، تھوڑا ذوق لیا، اور ساتھ میں تھوڑی معلومات لے لیں، جسے عربی میں کہتے ہیں اعلام،کہ آپ آئے،خطیب صاحب آئے آپ کو کچھ معلومات دیں،کچھ واقعات بیان کی قرآن پڑھا اس سارے طریقہ کو کہتے ہیں اعلام اس سے انسان کی زندگی میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوتی کیونکہ آپ صرف معلومات لے کر گئے ہیں۔ اس لئے کہ آپ تبدیلی کے لئے آئے ہی نہیں۔ نیک مجلس میں چند لمحے اس نیت سے کہ بری مجلس بچ کر آنے والوں کو اعلی درجہ ملتا ہے اس سے بھی اعلی درجہ وہ ہے وہ یہ ہے جو سنوں گا اسے اپنی زندگی کا حصّہ بنانا ہے، صحابی آج ایک بات سیکھ کر جانا ہے جس کو زندگی بھر اپناوں گا پھر ان کی زندگیاں بدل گئیں بالکل ایسے ہی پانی آپ کے پاس ہے جب تک پانی نہیں پیئیں گے پیاس نہیں جائے گی ایسے ہی کھانا آپ کے پاس ہو جب تک آپ نہیں کھائیں گے آپ کی بھوک ختم نہیں ہو گی۔ یہی معاملہ علم کا ہے۔آپ کے پاس قرآن جیسا علم ہو،آپ کے پاس رسول پاکﷺ کی سیرت ہو،قرآن کے علم جیسا پوری کائنات میں کوئی علم نہیں یہ کلام الہی ہے۔ اور رسول پاکﷺ کی سیرت سے بڑھ کر،آپ کے اقوال سے بڑھ کر کوئی اعلی تعلیم نہیں،آپ کے پاس قرآن بھی ہے سیرت نبوی بھی ہے۔آپ ساری زندگی اس کو لے کر سینے میں بیٹھے رہیں رتی برار بھی آپ کی زندگی تبدیل نہیں ہو گی کہ آپ نے اس کو استعمال ہی نہیں کیا۔جب تک انسان علم کو استعمال نہ کرے وہ علم بے کار ہے ٭یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ کوئی اللہ کو پانے نکلے،اللہ کے رسولﷺ کو پانے نکلے، اس کی معرفت کو پانے نکلے، اور اسے کوئی راستہ نہ ملے۔اسے کوئی حادی نہ ملے، اسے کوئی رہبر نہ ملے،اسے کوئی رہنماء نہ ملے،یہ قرآن مجید کے اس تصورکے خلاف ہے،کہ کوئی جدو جہد کرے اور کوئی نتیجہ نے ملے۔یہ قرآن مجید کے اصول کے خلاف ہے،یہ اللہ کے کلام کے خلاف ہے اور یہ فرمان الہی کے خلاف ہے٭
