Skip to content

فرینکفرٹ کے جنوب میں واقع شہر نیو آثزن برگ میں پاکستانی نثراد خاتون مرینہ حسین نے بچوں کے والدین کے تعاون اور سڈڈٹ نیو آئزن برگ سے مل کر ایک ہال میں میلاد مصطفی ﷺ کا خوبصورت اہتمام کیا

    جرمنی کے شہر فرینکفرٹ کے جنوب میں واقع شہر نیو آثزن برگ میں پاکستانی نثراد خاتون مرینہ حسین جو کسی تعارف کی محتاج نہیں نے بچوں کے والدین کے تعاون اور سڈڈٹ نیو آئزن برگ سے مل کر ایک ہال میں میلاد مصطفی ﷺ کا خوبصورت اہتمام کیا جس میں بچوں نے ایک جیسی ٹوپیاں اور لڑکیوں نے پیلے دوپٹے پہنے ہوئے میلاد میں حصّہ لیا۔ خصوصی مہمان کے طور پر عذرہ حسین اور مہوش افتخار تشریف لائی تھیں، چاروں طرف نور ہی نور یہ کس کی آمد کی خوشی ہے یقیناََ آمد رسول ﷺ کی خوشی منائی جا رہی ہے چاروں طرف نور پھیلا ہوا ہے اسی دوران بچے صلواۃ و رسول ﷺ پڑھتے ہوئے ہال میں داخل ہوتے ہیں ان کے ہاتھوں میں سبز جھنڈے اٹھائے ہوئے تھے سب کی زبان پر ایک ہی آواز تھی ٭نور والا آیا ہے نور لے کر آیا ہے،کیسا نور چھایا ہے اصلوۃ و سلام علیکم یا رسول اللہ اصلوۃ و سلام علیکم یا حبیب اللہ۔ سرکار کی آمد مرحبا دلدار کی آمد مرحبا۔اس کے بعد محفل کا باقاعدہ آغاز تلاوت قرآن پاک سے کیا گیا جس میں عمر،عبد احادی، سانائے۔وجیعہ اور کشف نے تلاوت سنائی،،نعت شریف، عبد الحادی نے اسلامی مہینوں کے نام سنائے، ہادیہ اور رابعہ۔ سویرا اور مشال نے نعت رسول ﷺ سنائی بچوں نے اللہ کریم کے اسماء حسنی سنائے،عمرہ کی فضیلت وجیعہ بچوں نے چھوٹی چھوٹی تقاریر بھی کیں جس میں توحید کا مطلب، بارہ ربیع الاول، ایمان، فرمان رسول، صبر کے بارے میں حضور اکرم ﷺ کا فرمان شامل تھے اسی دوران نماز عصر اور مغرب بھی ادا کی گئی بچوں نے ہی آزان بھی دی، پھر بچوں کو پہلے تمغے دیئے گئے۔ تقاریر میں پہلا۔ دوسرا اور تیسرا انعام دیا گیا سوالات کے جواب دینے والے بچوں کو بھی تحائف دیئے گئے، نعت پڑھنے والوں کو بھی باقاعدہ طور پر انعامات سے نوازہ گیا بچوں کی خوشی کا اندازہ ان کے چہروں سے لگایا جا سکتا تھا، مرینہ حسین نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ تن تنہا والدین سے مل کر پاکستان کے قومی دن جیسا کہ چودہ اگست یوم پاکستان، عیدین، اور میلاد مصطفی کا پروگرام ترتیب دیتی ہیں ان کا کہنا تھا کہ میں مشکور ہوں نیو آئزن برگ اور ڈیٹزن باخ کے سرکاری اہلکاروں کا کہ وہ مجھے ایسی تقریبات کے لئے ہال فراہم کر دیتے ہیں۔ میری کوشش یہی ہے کہ یہاں پیدا ہونے والے بچوں کو دینیات کی تعلیم سے آراستہ کروں، قومی دنوں جیسا کہ یوم پاکستان، مذہبی دن (تہوار) عید الفطر اور عید الاضحی، میلاد مصطفی بارہ ربیع الاول ان سب کو میں عبادت کا حصّہ سمجھتی ہوں۔ دنیا کے تمام آزاد ملک اپنی پہچان رکھتے ہیں اور اپنے بچوں کو بتانا ہمارا فرض ہے، اپنے ملک کی ثقافت اپنے بچوں تک پہنچانا والدین کا فرض ہے۔ بچوں نے میلاد مصطفی کی خوشی میں کیک بھی کاٹا محفل کے اختتام پر سب نے مل بیٹھ کر کھانا کھایا۔

    Leave a Reply

    Your email address will not be published. Required fields are marked *