جرمنی کے شہر آفن باغ ڈیرہ پاکستان ریسٹورنٹ میں پاکستانی جرمن کمیونیٹی کا ایک اجلاس ہوا جس کی سربراہی جناب مالک دانیال جہانگیر اعوان صاحب جناب محمود سیعد صاحب جناب گلزار صاحب آزاد حسین صاحب زیرصدارت پاکستان جرمن پریس کلب کے صدر محترم جناب پرویز سلیم بٹ صاحب نے کی، جس میں جرمنی کے شہر فرینکفرٹ کے اردگرد رہنے والے مستقل آباد مختلف پاکستانیوں کی نمائندگی کرنے پاکستانیوں نے شرکت کی۔اس اجلاس کی نظامت جناب شفیق مراد صاحب نے کی
اجلاس کا آغاز باقاعدہ تلاوت کلام پاک سے ہوا جس کی سعادت جناب سردار افضل صاحب تلاوت کلام پاک کے بعد قومی ترانہ اس کے بعد جناب شاکر شجاع صاحب اور جناب شوکت بٹ صاحب نے ایک نظم کی صورت میں پاکستان کو نظرانہ عقدت پیش کی ،بزرگ تحریک پاکستان کے سئنر قابل احترام جناب اسداللہ خان صاحب نے تحریک پاکستان کے واقعات سناتے ہوئے پاکستانی کمیونٹی کو اپنے اندر اتحاد و یکجہتی قائم رکھنے پر اتفاق کیا۔
جرمنی کے شہر ڈارمشٹڈ سے پاکستانی جرمن کمیونیٹی کے کونسلر جناب گلزار صاحب نے اپنے خطاب میں پاکستانی جرمن کمیونیٹی کو اپنے اندر اتحاد و یکجہتی قائم رکھنے اور پاکستانی اعلی اداروں کا احترام رکھنے پر اتفاق کیا۔اس اجلاس میں جناب محمود سیعد صاحب(ہم ہیں پاکستان کے چیرمین )
اپنے مختصر خطاب میں تمام پاکستانیوں کو اتحاد و یکجہتی اعلی اداروں کا احترام اور کونسلیٹ پاکستان جنرل جو کہ ہم سب کے لیے قابل احترام ہے اس پر ایک سیاسی جماعت کے چند افراد نے جو احتجاج کیا اس کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی۔
اس اجلاس کے رواں روں جناب ملک دانیال جہانگیر اعوان صاحب نے اپنے خطاب میں ان تمام افراد کی بھرپور مذمت کی جہنوں نے پاکستان کونسلیٹ جنرل کے سامنے اعلی اداروں کی ہرزہ سرائی کی جرمنی میں مستقل آباد پاکستانیوں کو اپنے اندر اتحاد و یکجہتی قائم رکھنے اور پاکستان اور اعلی اداروں کے ساتھ کھڑے رہنے پر زور دیا اگلے پروگرام کا لائحہ عمل طے کیا گیا۔
صحافی تجزیہ نگار میڈیا ٹیم پوچھتا ھے پاکستان کے جناب آزاد حسین نے اپنے خطاب میں فرمایا کیونکہ پاکستان میری ریڈ لائن ھے اس لیے میں اپنا قومی فریضہ سمجھتے ہوئے ہر اس کی مذمت کرتا ہوں جو میری ریڈ لائن کراس کرے گا۔آخر میں پاکستان جرمن پریس کلب کے صدر محترم پرویز سلیم بٹ صاحب نے پاکستان اور اعلی اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے والوں کو متنبہ کیا کہ وہ پاکستان اور اعلی اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی بند کریں پاکستان جرمن پریس کلب اس کی مذمت کرتا ہے اور پاکستان جرمن پریس کلب استحکام پاکستان اور اعلی اداروں کا احترام چاہتا ہے اور پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے۔
صدر محترم نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا ان آئندہ کا لائحہ عمل طے کرتے ہوئے اپنے تعاون کا یقین دلایا۔
