برلن رپورٹ مطیع اللہ ،
تاریخ کے سیاہ ترین دن 27 اکتوبر 1947 کشمیریوں پر انڈین افواج کہ جانب سے قیامت ڈہائی گئی ہرسال کیطرح اس سیاہ دن کو یاد کرتے ھوئے مقبوضہ کشمیر کے عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کے موقع پر فرینڈز آف کشمیر نے جانب سے برلن کے تاریخی برینڈن برگ گیٹ پرکشمیریوں کے حقوق کے لیے احتجاج مظاہرہ کیا گیا
مقبوضہ کشمیر میں 76 سالوں سے بھارتی قابض فوج کے کشمیریوں پر مظالم اور نسل کشی کیخلاف دنیا بھر کیطرح جرمنی میں بھی 27 اکتوبر 1947 کی یاد میں یوم سیاہ منایا گیا
مختلف سیاسی جماعتوں کے مشترکہ تنظیم فرینڈز آف کشمیر کے قائدین جرمن حکومت سے مطالبہ کرتے ھوئے کہاکہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کو روکنے اور حق خودارادیت دلانے میں کردار ادا کرے، اس موقع پر مظاہرین نے پلے کارڈز اور بینرز اٹھائے ھوئے تھے مظاہرین سے خطاب کرتے ھوئےمقررین نے کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہاکہ ہم کشمیریوں کے جدوجہد آزادی میں صف اول کا کردار اداکرینگے ،27 اکتوبر دنیا کا سیاہ ترین دن کے طور پر یاد کیا جاتا ھے
دنیا کے انسانی حقوق کہ تنظیموں نے کشمیرکے مسئلہ پر انکھیں موند لی ہیں پاکستان اور بھارت ایمٹی طاقتیں ہیں اقوام متحدہ نے مسئلہ کشمیر پر اپنا واضح موقف اختیار نہیں کیا تو دنیا ایک ایمٹی جنگ داخل ہو سکتی ھے
عالمی برادری کشمیرکے مسئلہ پر اپنا کردار ادا کرے بھارت میں درجنوں ازادی کی تحریکیں سرگرم عمل ہیں جس طرح روس ٹکڑوں میں بھٹ گیا اس طرح بھارت کا نام۔و نشان بھی مٹ جائے گا
مقررین نے انسانی حقوق کی تنظمیوں، جرمنی سمیت اقوام متحدہ سے کشمیریوں پر بھارتی مظالم رکوانے پر کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا گیا
