Skip to content

فیفا ورلڈ کپ سے صرف 2 ہفتے قبل قطر اور جرمنی کے بگڑتے تعلقات

    فیفا ورلڈ کپ سے صرف 2ہفتے قبل قطر اور جرمنی کے بگڑتے تعلقات، قطر کی قیادت جرمن حکومت کی جانب سے کی جانےوالی تنقید پر برہم ہے. قطری وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ جرمن حکومت نے ایندھن خریدنا ہو تو معیار الگ ہے اور اگر فٹ بال کھیلنا ہو تو اس کا معیار بدل جاتا ہے۔
    غیرملکی میڈیا کےمطابق تقریباً دو ہفتے بعد قطر میں فٹ بال کا عالمی کپ شروع ہونے سے قبل قطری وزیر خارجہ محمد بن عبد الرحمان الثانی نےکہاہےکہ برلن حکومت کا’’معیار دوہرا‘‘ ہے۔جرمن اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے قطری وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے جرمن عوام کو غلط معلومات فراہم کی جا رہی ہیں، اس وقت تو جرمن حکومت کو قطر سے کوئی مسئلہ نہیں ہوتا جب اس نے ایندھن خریدنا ہوتا ہے یا پھر افغانستان سے اپنے جرمن شہریوں کو بچانا ہوتا ہے.
    محمد بن عبد الرحمان الثانی کا مزید کہنا تھا جب ہم فٹ بال ورلڈ کپ کا انعقاد کرتے ہیں، اس لمحے سے لطف اندوز ہونا چاہتے ہیں اور جرمن ٹیم کے ساتھ مل کر جشن منانا چاہتے ہیں تو اچانک مختلف معیارات لاگو ہو جاتے ہیں. قطر ہمیشہ تعمیری تنقید سننے کے لیے تیار ہے لیکن ایسی حکومت، جو تمام اصلاحات اور پیش رفت سے واقف ہے، جو بظاہر ہمارے ساتھ مل کر کام کرتی ہے، غلط معلومات کی بنیاد ہماری غلط تصویر پیش کرے تو یہ ناقابل قبول ہے۔‘‘
    دوحہ حکومت کی ناراضی کی وجہ جرمنی کی خاتون وزیر داخلہ نینسی فیزر (ایس پی ڈی) کے بیانات بنے ہیں۔انہوں نے قطر میں انسانی حقوق کی صورتحال کے پیش نظر فٹ بال ورلڈ کپ کے انعقاد کو ’’ایک مشکل فیصلہ‘‘ قرار دیا تھا اور اشارتاً کہا تھا کہ جہاں انسانی حقوق کا خیال نہ رکھا جاتا ہو وہاں عالمی کپ جیسے ایونٹس کا انعقاد بھی نہیںہونا چاہیے۔
    علاوہ ازیں خاتون وزیر داخلہ نے LGBTIQ کمیونٹی کے لیے حفاظتی ضمانتوں کا بھی مطالبہ کیا تھا کیونکہ قطر میں ہم جنس پرستی قابل سزا جرم ہے۔

    Leave a Reply

    Your email address will not be published. Required fields are marked *