اس سال یورپی یونین میں عارضی پناہ کے حصول کی درخواستوں کے ریکارڈ ٹوٹنے لگے ہیں۔ یہ بات یورپی یونین کی ایجنسی برائے اسائلم EUAA نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں بتائی۔
رپورٹ کے مطابق صرف مئی کے مہینے میں یورپی یونین میں 5 لاکھ 30 ہزار افراد نے عارضی پناہ کی درخواست دی۔ جس میں زیادہ تر یوکرین کے شہری شامل تھے۔
ایجنسی کے مطابق روس کی جنگ کے باعث یوکرین کے 73 لاکھ کے قریب افراد نے یورپی یونین کے ممالک میں عارضی پناہ لے رکھی ہے۔اسی رپورٹ کے مطابق صرف مئی کے مہینے کے دوران یورپ میں دیگر قومیتوں کے 70 ہزار 200 افراد نے بھی عارضی پناہ کی درخواست دی۔ جبکہ اپریل کے مہینے میں ایسی ہی درخواستوں کی تعداد 60200 تھی۔
ایجنسی کے مطابق 2016 کے بعد یورپ میں پناہ کی درخواستوں کا ماہانہ کی بنیاد پر یہ دوسرا سب سے بڑا ریکارڈ ہے۔ ان درخواست دہندگان میں جن شہریتوں کے افراد نمایاں تھے ان میں افغانستان، شام ، وینزویلا، کولمبیا اور پاکستانی شامل ہیں۔
جبکہ ترکی اور جارجیا کے افراد کی جانب سے 2014 کے بعد پہلی مرتبہ زیادہ درخواستیں آئی ہیں۔ ان میں ترکی کے 3300 اور جارجیا کے 2500 افراد شامل ہیں۔ایجنسی کے مطابق ان تمام درخواست دینے والوں میں 2900 نابالغ بھی شامل ہیں۔
