Skip to content

جی سیون رکن ممالک یوکرین کو اقتصادی،سیاسی، عسکری اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد جاری رکھیں گے

    برلن رپورٹ مطیع اللہ،
    جی سیون رکن ممالک یوکرین کو اقتصادی،سیاسی، عسکری اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد جاری رکھیں گے،ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلق غریب ممالک کو مدد فراہم کرنے کے لیے 6 بلین ڈالر مختص، نیا انفراسٹرکچر بنایا جائےگا جی سیون ممالک کے 48 واں اجلاس کا اختتام پراعلامیہ جاری کردیا دنیا کے سات بڑے اقتصادی ممالک برطانیہ، کینیڈا، فرانس، امریکہٴ جرمنی، جاپان ،اٹلی کے سربراہان حکومت کے علاوہ یورپی یونین کمیشن کی صدر ارزولا فان ڈیئرلائن اور یورپی کونسل کے سربراہ شارک میشل پر مشتمل بلاک کی سہ روزہ کانفرنس جرمنی میں اختتام پذیر ہو گئی
    جی سیون اجلاس کا مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا گیا ہے۔جی سیون سمٹ میں تحفظ ماحولیاتی تبدیلیوں کے موضوع اور یوکرین کی جنگ کو ایجنڈا میں خصوصی اہمیت حاصل رہی ۔جی سیون کانفرنس میں یوکرین کے صدر نے بھی ویڈیو لنک سے خطاب کیا اور دنیا کے امیر ممالک کے سربرہان سے مطالبہ کیا کہ موسم سرما سے قبل اس جنگ کو ختم کروا دینا چاہیے،انہوں نے مزید جنگی ہتھیاروں کا بھی مطالبہ کیا تاکہ روسی جارجیت کا مقابلہ کیا جاسکے۔ذرائع کے مطابق کانفرنس میں امریکہ نے واضح کیا کہ واشنگٹن حکومت روسی عسکری صنعت کو نشانہ بنائےگی تاکہ ماسکو کی روسی صلاحیت کو کمزور کیا جاسکے۔ میزبان ملک جرمن کے چانسلر اولاف شولس نے کہا کہ یوکرین پر حملہ کرنے کی وجہ سے روس پر دبائو بڑھانے کا عمل جاری رہےگا اور جی سیون یوکرین کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتا ہے۔جی سیون سمٹ کے اختتام پر جاری اعلامیہ کے مطابق جی سیون کے رکن ممالک یوکرین کو اقتصادی،سیاسی، عسکری اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد جاری رکھیں گے اور یہ بلاک یوکرینی عوام کے ساتھ ہے۔
    ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلق بلاک کے رکن ممالک نے 6 بلین ڈالر کی خطیر رقم مختص کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کےلئے ایک نیا انفراسٹرکچر بنایا جائےگا جس کے تحت غریب ممالک کو مدد فراہم کرنے ٹھوس طریقہ کار وضع کیا جائے گا۔یاد رہے کہ یہ تین روزہ کانفرنس جرمنی کے صوبے باویریا میں ایلپس کے پہاڑی علاقے کے دامن میں واقع ایلمائ کے ایک تاریخی قلعے میں منعقد ہوئی ہے جس کاآغاز اتوار کو ہوا تھا
    جی سیون اجلاد میں جی سیون کے مستقل ممبران کے علاوہ دنیا کے جن سربراہان مملکت کو اس سمٹ میں مدعو کیا گیا ہےان میں ارجنٹائن، بھارت، انڈونیشیا اور جنوبی افریقہ شامل تھے جبکہ مختلف مندوبین بھی نے بڑی تعداد میں شرکت کی

    Leave a Reply

    Your email address will not be published. Required fields are marked *