برلن، خصوصی رپورٹ مطیع اللہ
جرمنی کے عالمی نشریاتی ادارے ڈوئچے ویلے کے زیر اہتمام گلوبل میڈیا فورم کا نعقاد ہوا جسمیں دنیابھر سے ڈی ڈبلیو میڈیا پارٹنر پالیسی سزا داروں سے تعلق رکھنے والے افراد کے علاوہ صحافی، بلاگرز، آن لائن ایکٹوسٹ، سوشل میڈیا لکھاریوں، تجزیہ نگاراور دیگر عالمی مبلغین نے شرکت کی، ہر سال منعقد ھونے والا یہ گلوبل میڈیا فورم گزشتہ دوسال کوویڈ کی وجہ سے آن لائن منعقد ھوتا رہا جبکہ گزشتہ سال کے اختتام کے ساتھ ہی کوویڈ19 کے لاک ڈاؤن میں نرمی اور تقریبات کے انعقاد کے اجازت کے ساتھ ہی گلوبل میڈیا فورم کا مخصوص تعداد میں انعقاد کرایا گیا
2022 کے گلوبل میڈیا فورم کا عنوان
(ہمارے کل کی تشکیلِ نو آج سے ) منتخب کیا گیا
گلوبل میڈیا فورم سے جرمن وزیر خارجہ انانیلا بیربروک نے ویڈیو کے زریعے خطاب کرتے ہوئےگلوبل میڈیا فورم کے شرکاء کو جرمنی آمد پر خوش امدیدکہا اور امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ جنگیں کبھی امن کی ضمانت نہیں ہیں روس کا یوکرائن پر جارحیت سے دنیا بھر میں ایکہجانی سے کیفیت پیدا ھوگی ھے روسی جارحیت کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ھے، ہم ازادی صحافت پر یقین رکھتے ہیں گلوبل میڈیا فورم اور عالمی زرائع ابلاغ کو روسی جارحیت پر اپنا کردار ادا کرنا چاہیے
شرکاء نےیوکرائن پر روس جارحیت، موسمیاتی تبدیلیوں، کورونا وباء، طالبان کی افغانستان میں حکومت سمیت دیگر عالمی ایشوز سمیت مختلف پر ورکشاپس کے زریعے اپنی رائے کا اظہار کیا
اس موقع پر پاکستان میڈیا کے سنئیر تجزیہ نگار اعزاز سید،معروف سوشل ایکٹوسٹ عاطف توقیر، تجزیہ نگار سید حیدر نے گلوبل میڈیا فورم اور عالمی زرائع ابلاغ کے حوالے سے اردونیوز جرمنی سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ گلوبل میڈیا فورم میں پاکستان سے مختلف میڈیا گروپس کے نمائندگان نے دلچسپی سے پروگرام ،ایونٹس اور ورکشاپس میں شرکت کی،
دوروزہ کانفرنس میں عالمی افق پر رونما ہونے والے حالات، واقعات کے بارے میں حاضرین نے اہم سوالات کےجواب تلاش کرتے دکھائی دیئے بحرانی کیفیت میں کس طرح جرنلزم ایک قابل اعتماد معلوماتی ذرائع کے طور پر اپناکردار ادا کرسکتا ھے دنیا بھر میں سیاسی، موسمیاتی تبدیلیوں اور وبائی امراض جیسے اہم موضوعات کو کس طرح بہتر طریقے سے نمٹا جا سکتے ہیں اور کونسے کاروبار ازاد پریس کو فروغ دے سکتے ہیں
