برلن رپورٹ مطیع اللہ
پاکستان پیپلزپارٹی برلن وفد کی قیادت برلن کے صدر منظور اعوان کی وفد میں جنرل سیکرٹری میاں اکمل لیطف، ملک ایوب اعوان، عابد بلوچ، میاں مبین اختراور پاکستان جرمن پریس کلب کے چئیرمین ظہوراحمد اور صوبہ سندھ کے سابق چیف سیکرٹری ممتار علی شاہ شامل تھے وفد نے حنا ربانی کھر کو برلن آمد پرخوش امدید کہتے ہوئے گلدستہ پیش کیا گرم جوشی سے استقبال کیا
حنا ربانی کھر نے پیپلزپارٹی کے وفد کے امد پر انتہائی خوش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ اوورسیز پاکستانی درحقیقت میں بیرونی ممالک میں پاکستان کا کردار ادا کرتے ہے ہمارج کوشش ھے کہ اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جاسکے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا کا دور ھے حقیقت جب سامنے اتی ھے تو جھوٹ نے ماحول خراب کیا ھوتا ھے اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ ہمیں احساس ھےاوورسیز پاکستانیوں کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل طلب ھے لیکن ووٹ کا حق کسی چینا نہیں ھے اووریسز پاکستانیوں کو نمائندگی دی جائےگی اس پر عملاً کام جاری ہیں کچھ کہنا قبل ازوقت ھوگا ایک سوال جواب میں انہوں نے کہاکہ ہر سماہی میں ہم فیٹف سے یہ امید لگاتے ھے اس بار ہمیں رعایت مل جائےگی لیکن اختتامی سیشن میں سب کچھ مختلف ھوتا ھے اس لیے اج بھی فیٹف سے متعلق کچھ کہنا قبک ازوقت ھوگا
حنا ربانی نےکہا کہ نوٹری پبلک تصدیق نامہ سمیت دیگر امور کو وقت بچانے کے لیے آن لائن کیا گیا تاکہ اووریسز پاکستانیوں کو اسانیاں میسر ھو لیکن اس کے باجود سفارتخانوں میں عملہ اس میں مددگارثابت ھو رہا ھے
انہوں نے کہا کہ ہماری تربیت اس چیز کی اجازت نہیں دیتا کہ ہم سوشل میڈیا پر دوسروں کی طرح گندے القابات کا استعمال کرے ہیمیں صبر تحمل سے کام کیا چاہیے عموماً سوشل میں پر پروپیگنڈہ کیا جاتا ھے لوگو کے ذاتیات کو اچھالا جاتا ھے ہماری سیاسی تربیت اس انداز میں کی گئی ھے کہ ہمیں یہ زیب نہیں دیتا کہ اپنے نوجوانوں کو اس ازیت ناک پروپیگنڈہ کے اسیر بنائے البتہ اپنے عملا کام سے لوگوں کو متاثر کرہنگے
