Skip to content

فنانس ایکشن ٹاسک فورس نے پاکستان کو مزید گرے لسٹ میں رکھنے اور مزید اقدامات کے لیے مختلف زیلی اداروں کو پاکستان کا دورہ کرنے کی ہدایت کردی ھے

    برلن رپورٹ مطیع اللہ
    فنانس ایکشن ٹاسک فورس نے پاکستان کو مزید گرے لسٹ میں رکھنے اور مزید اقدامات کے لیے مختلف زیلی اداروں کو پاکستان کا دورہ کرنے کی ہدایت کردی ھے
    جرمنی کے دارلحکومت برلن میں فیٹف کا پانچ روزہ اجلاس 13 جون سے شروع ھونے والے اجلاس جس میں پاکستان کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور حناربانی کھر نے پاکستان کے موقف کو پیش کیا، 17 جون کو اختتامی سیشن کے موقع پر فیٹف کے صدر مارکس پائر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ مختلف ممالک کی طرح پاکستان کو بھی گرے لسٹ میں برقرار رکھا ھے ابھی منی لانڈرنگ اور دہشتگروں کی فنڈریزنگ سمیت دیگر ایشوز ابھی قابل عمل ھے البتہ فیٹف کی جانب سے 34 سفارشات کے زریعے اھداف حاصل کئے گئے تاہم چند چیزوں پر ابھی بھی کچھ کلئیر نہیں ھے کس کے لیے کمیٹی اور زیلی ادارے پاکستان کا دورہ کرینگے اور ازسرنو جائزہ لیا جائےگا تاکہ گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے درکار شواہد مل سکے
    قبل۔ازیں منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی امداد روکنے کے لیے ایف اے ٹی ایف کی جانب سے جو 40 سفارشات مرتب کی گئی ہیں ان کے نفاذ کو انٹرنیشنل کارپوریشن ریویو گروپ نامی ایک ذیلی تنظیم دیکھتی ہے۔
    نومبر 2017 میں انٹرنیشنل کارپوریشن ریوویو گروپ کا اجلاس ارجنٹینا میں ہوا جس میں پاکستان سے متعلق ایک قرارداد پاس کی گئی۔ اس اجلاس میں پاکستان کی جانب سے لشکر طیبہ، جیش محمد اور جماعت الدعوۃ جیسی تنظیموں کو دی جانے والی مبینہ حمایت کی طرف توجہ دلائی گئی۔ اس کے بعد امریکہ اور برطانیہ کی جانب سے پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کرنے کی سفارش کی گئی جس کے بعد فرانس اور جرمنی نے بھی اس کی حمایت کی۔
    پاکستان کے اس وقت کے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے امریکہ اور دیگر تین مملک سے پاکستان کا نام واپس لینے کی درخواست کی لیکن سب سفارتی کوششیں رائیگاں گئیں اور جون 2018 میں پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں شامل کر لیا گیا۔ اس سے پہلے بھی پاکستان سنہ 2013 سے سنہ 2016 تک گرے لسٹ کا حصہ رہ چکا ہے۔اس وقت دنیا کے اٹھارہ ممالک ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں شامل ہیں۔ اسی طرح ایک بلیک لسٹ بھی ہے جس میں اس وقت دنیا کے دو ممالک ایران اور شمالی کوریا شامل ہیں۔گرے لسٹ میں موجود ممالک پر عالمی سطح پر مختلف نوعیت کی معاشی پابندیاں لگ سکتی ہیں جبکہ عالمی اداروں کی جانب سے قرضوں کی فراہمی کا سلسلہ بھی اسی بنیاد پر روکا جا سکتا ہے
    پاکستان سنہ 2000 کی دہائی سے دہشت گردوں کی معاشی معاونت اور پُشت پناہی کے الزامات کا عالمی سطح پر سامنا کرتا آ رہا ہے۔
    پاکستان کے مخالفين انڈیا اور دیگر ممالک نے بھی پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھنے کے لیے پروپیگنڈہ شروع کیاتھا تاھم امریکہ نے پاکستان سے متعلق اپنی سفارشات میں تبدیلی کرتے ہوئے بغور جائزہ لینا شروع کردیا ھے جس کے باعث بھی پاکستان کو فائدہ ھوا۔

    Leave a Reply

    Your email address will not be published. Required fields are marked *